موسمِ بہار 2026: نمائشی شجرکاری سے سائنسی ماحولیاتی قیادت تک

 پاکستان کے لیے ایک پائیدار اور شفاف قومی حکمتِ عملی کی ضرورت

Source: https://share.google/MU0oLeIHOl6WkA5tb

موسمِ بہار 2026 پاکستان کے لیے ایک تاریخی اور بروقت م فراہم کرتا ہے کہ شجرکاری مہمات کو رسمی اور نمائشی سرگرمیوں سے نکال کر ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف ایک مؤثر، سائنسی اور حکمتِ عملی پر مبنی قومی اقدام میں تبدیل کیا جائے۔ ماحولیاتی تبدیلی اب کوئی مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک موجودہ حقیقت ہے، جو گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ، تباہ کن سیلابوں، شدید گرمی کی لہروں، بے ترتیب بارشوں، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور فضائی آلودگی کی صورت میں نمایاں ہو رہی ہے۔
لہٰذا شدید نتائج کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت جنگلات کی افزائش اور بحالی کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے—خصوصاً شمالی علاقہ جات اور گلگت بلتستان جیسے ماحولیاتی طور پر حساس خطوں میں، جہاں ماحولیاتی بگاڑ براہِ راست انسانی زندگی اور معاشی وسائل کو متاثر کرتا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی: ایک موجودہ اور کثیر جہتی بحران
ماحولیاتی تبدیلی کو محض ایک ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا ناکافی ہے؛ یہ ایک سنگین طبی، معاشرتی اور نفسیاتی بحران بھی ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور فضائی آلودگی سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور ہیٹ اسٹروک میں اضافہ کر رہے ہیں۔ سیلاب آلودہ پانی اور وبائی امراض کو جنم دیتے ہیں، جبکہ غذائی قلت اور متعدی بیماریوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ قدرتی آفات ذہنی دباؤ، اضطراب، ڈپریشن، صدمے اور نقل مکانی جیسے سماجی مسائل کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی صحتِ عامہ، بچوں کے حقوق اور عالمی ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے (IPCC, 2023; WHO, 2021; UNICEF, 2021)۔ اس تناظر میں پائیدار شجرکاری دراصل صحتِ عامہ اور انسانی بقا کے تحفظ کا بنیادی ذریعہ ہے۔

نمائشی شجرکاری کا مسئلہ
بدقسمتی سے شجرکاری مہمات کو اکثر تصویری تشہیر، میڈیا کوریج اور رسمی تقریبات تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ کامیابی کا معیار عموماً لگائے گئے پودوں کی تعداد کو بنایا جاتا ہے، جبکہ ان کی بقا، افزائش اور ماحولیاتی مطابقت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
پائیدار شجرکاری کے لیے درج ذیل عناصر ناگزیر ہیں:
موسمی زون اور مقامی حیاتیاتی تنوع کے مطابق درختوں کا انتخاب
زمین کی ساخت، بلندی اور پانی کی دستیابی کا سائنسی تجزیہ
بعد از شجرکاری نگہداشت (آبپاشی، باڑ، چرائی سے تحفظ)
ڈیجیٹل نگرانی اور جغرافیائی نقشہ سازی
مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور ملکیت کا احساس
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب لگائے گئے پودے تناور درخت بن کر ماحولیاتی بحالی میں حقیقی کردار ادا کریں، نہ کہ محض اعداد و شمار کا حصہ بن جائیں۔

کمیونٹی ماڈلز: AKRSP کا تجربہ
پاکستان میں کمیونٹی شمولیت پر مبنی کامیاب ماڈلز موجود ہیں، جن میں سب سے نمایاں آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) ماڈل ہے۔ یہ ماڈل گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں تجربہ کیا گیا، جہاں مقامی ویلیج آرگنائزیشنز اور ویمن آرگنائزیشنز کے ذریعے مقامی افراد کو منصوبہ بندی، آبپاشی نظام اور زمین کی بحالی میں شریک کیا گیا۔
AKRSP کے تجربے نے ثابت کیا کہ جب کمیونٹی کو ملکیت اور جوابدہی دی جاتی ہے تو بنجر زمینیں سرسبز اور پیداواری علاقوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ مقامی شمولیت، مقامی انتظام اور تربیت یافتہ ورک فورس کی بدولت درختوں کی بقا اور ماحولیاتی نظام کی پائیداری میں نمایاں اضافہ ہوا۔
حالیہ قومی سطح کے بعض منصوبوں کے حوالے سے مبصرین اور آزادانہ جائزوں نے نگرانی، شفافیت اور آزادانہ آڈٹ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ امر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ نیک نیتی سے شروع کیے گئے ماحولیاتی پروگرام بھی مؤثر گورننس کے بغیر دیرپا نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔

صحتِ عامہ اور ماحولیاتی بحالی کا باہمی تعلق
جنگلات نہ صرف کاربن کے اخراج کو کم کرتے ہیں بلکہ مقامی درجہ حرارت میں اعتدال، فضائی معیار میں بہتری، پانی کے ذخائر کے تحفظ اور حیاتیاتی تنوع کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں (FAO, 2020)۔ اس طرح شجرکاری دراصل ایک جامع صحتیاتی اور سماجی سرمایہ کاری ہے۔
اگر ماحولیاتی نظام متوازن ہو تو بیماریوں کا بوجھ کم ہوتا ہے، غذائی تحفظ بہتر ہوتا ہے، اور کمیونٹیز زیادہ مضبوط اور خود کفیل بنتی ہیں۔

تعلیمی اداروں کا کلیدی کردار
تعلیمی ادارے اس قومی جدوجہد میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔ بچے موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں شامل ہیں (UNICEF, 2021)، اس لیے نصاب میں موسمیاتی تعلیم، پائیداری اور ذمہ دار شہری ہونے کے تصورات کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسکول اور کالج درج ذیل اقدامات اختیار کر سکتے ہیں:
"ایک طالب علم، ایک درخت" مہم
ماحولیاتی کلبوں کا قیام
کمیونٹی شجرکاری ڈرائیوز
سیمینارز اور آگاہی پروگرام
مقامی جنگلاتی محکموں کے ساتھ شراکت
اساتذہ بطور فکری رہنما نئی نسل میں ماحولیاتی شعور اور عملی ذمہ داری کا احساس بیدار کر سکتے ہیں۔

آگے کا راستہ: موسمِ بہار 2026 کو قومی سنگِ میل بنائیں
موسمِ بہار 2026 کو محض ایک موسمی سرگرمی نہیں بلکہ قومی عزم کی علامت بنایا جانا چاہیے۔ شجرکاری کی حکمتِ عملی میں درج ذیل عناصر شامل ہونے چاہئیں:
سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی
موسمی زوننگ اور مقامی انواع کا انتخاب
ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور شفاف مالیاتی نظام
آزادانہ آڈٹ اور احتساب
کمیونٹی شمولیت اور طویل المدتی نگرانی
حکومت، غیر سرکاری تنظیموں، تعلیمی اداروں اور مقامی کمیونٹیز کے باہمی تعاون سے ہی مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ مربوط اور جوابدہ اقدامات کے ذریعے پاکستان جنگلاتی رقبہ بڑھا سکتا ہے، فضائی معیار بہتر بنا سکتا ہے، حیاتیاتی تنوع کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کر سکتا ہے۔

نتیجہ(Conclusion)
اب وقت آ گیا ہے کہ رسمی اور نمائشی شجرکاری سے آگے بڑھ کر سائنسی، شفاف اور کمیونٹی پر مبنی ماحولیاتی قیادت کو اپنایا جائے۔ موسمِ بہار 2026 کو ایک ایسے سنگِ میل میں تبدیل کیا جائے جو پاکستان کو سرسبز، صحت مند اور ماحولیاتی طور پر مضبوط مستقبل کی طرف لے جائے۔
یہ صرف ایک ماحولیاتی مہم نہیں—یہ قومی بقا، صحت اور آنے والی نسلوں کے حقِ زندگی کا سوال ہے۔

حوالہ جات

Food and Agriculture Organization. (2020). Global forest resources assessment 2020. FAO.
Intergovernmental Panel on Climate Change. (2023). Climate change 2023: Synthesis report. IPCC.

United Nations Children’s Fund. (2021). The climate crisis is a child rights crisis: Introducing the Children’s Climate Risk Index. UNICEF.


World Health Organization. (2021). Climate change and health. WHO..

Comments

  1. بہت خوب سر جی، جب تک پراپر فینسنگ اور ایریگیشن پانی کا بندوبست نہیں ہوتا شجرکاری ناکام اور شوبازی کے علاوه کچھ نہیں....👍

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Tagham: A Ploughing Festival Celebrating the Arrival of Spring

Becoming an Engaged Citizen: A Path to a Better Society

Revitalizing Endangered Languages: Bridging Tradition and Technology to Preserve Cultural Identity.