ایران–عراق جنگ (1980–1988): تاریخی اسباب، انسانی نتائج اور عالمی امن کے اسباق
"کثرت پسندی صرف ایک سیاسی تصور نہیں بلکہ ایک اخلاقی فریضہ ہے۔ وہ معاشرے جو تنوع، مکالمہ اور باہمی احترام کو اپناتے ہیں، دیرپا امن اور انسانی ترقی کی بنیاد رکھتے ہیں۔" Aga Khan IV- تعارف بیسویں صدی کی تاریخ میں چند جنگیں ایسی ہیں جنہوں نے نہ صرف علاقائی سیاست بلکہ عالمی توازنِ طاقت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان میں ایران–عراق جنگ ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ جنگ تقریباً آٹھ سال تک جاری رہی اور اسے جدید دور کے طویل ترین اور سب سے تباہ کن علاقائی تنازعات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ جنگ 22 ستمبر 1980 کو اس وقت شروع ہوئی جب عراق کے صدر Saddam Hussein کی قیادت میں عراق نے ایران پر وسیع پیمانے پر حملہ کیا۔ ابتدا میں عراق کو امید تھی کہ وہ ایک مختصر اور فیصلہ کن جنگ کے ذریعے اپنے سیاسی اور علاقائی اہداف حاصل کر لے گا، لیکن یہ تنازعہ جلد ہی ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہوگیا۔ اس جنگ نے دونوں ممالک کے انسانی، اقتصادی اور سماجی وسائل کو شدید نقصان پہنچایا۔ مزید برآں، اس جنگ کا مطالعہ محققین، پالیسی سازوں اور عام شہریوں کے لیے اہم اسباق فراہم کرتا ہے۔ خاص طور پر Pakistan جیسے ممالک کے لیے، ...