Posts

لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی: پاکستان کا خواندہ مستقبل کی جانب 60 سالہ سفر

Image
شکل1 گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول گلِمت، گوجال، ہنزہ میں عالمی یومِ خواندگی 2026 کی تقریب تصویر : قاسم شاہ، 8 ستمبر 2026ء خلاصۂ مضمون   پاکستان 2026ء میں عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالانہ یاد ایک ایسے تعلیمی منظرنامے کے ساتھ منا رہا ہے جس میں اہم پیش رفت بھی موجود ہے اور سنگین چیلنجز بھی۔ ملک میں خواندگی کی شرح گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بڑھی ہے، لیکن لاکھوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں اور بڑی تعداد میں بالغ افراد بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم ہیں۔ UNESCO کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.4 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ ملک کی خواندگی کی شرح تقریباً 62 فیصد کے آس پاس ہے۔ گلگت بلتستان اس قومی منظرنامے میں ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔ ہنزہ جیسے علاقوں میں تعلیم اور خواندگی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں نظر آتی ہیں، جبکہ خطے کے بعض دوسرے علاقوں میں جغرافیائی دشواریوں، غربت، محدود بنیادی ڈھانچے اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تعلیمی محرومی برقرار ہے۔ یہ مضمون UNESCO کے 2026ء کے موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خوا...

Literacy for People, Planet and Prosperity: Pakistan's 60-Year Journey Towards a Literate Future

Image
Figure 1 International Literacy Day 2026 Celebration at Government Boys Higher Secondary School Gulmit, Gojal Hunza Source: Qasim Ali (2026) Executive Summary Pakistan marks the 60th International Literacy Day with a mixed record. The national literacy rate stands at 63 percent, but over 25 million children remain out of school. There is a dramatic contrast between Hunza's 95 percent literacy rate and Diamer's 30 percent female literacy rate. This feature explores Pakistan's literacy journey through UNESCO's 2026 theme of "Literacy for People, Planet and Prosperity." The article examines how literacy empowers individuals, protects the environment, and builds economic prosperity. Special focus is given to Gilgit-Baltistan, where educational success and struggle exist side by side. The article argues that literacy is not merely a technical skill but a foundation for human dignity, environmental sustainability, and lasting peace. Drawing on Islamic foundations of...

ریاست ہنزہ کی مالیاتی انتظامیہ: داخلی مشینری سے نوآبادیاتی تبدیلی تک

Image
شکل ١: تاشقُورغان، صوبہ سنکیانگ، چین کا بلند سطح مرتفع اور پہاڑی منظر یہ پامیر کا وسیع علاقہ تاریخی طور پر ریاست ہنزہ کے خارجی محصولاتی نیٹ ورک کا حصہ تھا، جو چراگاہوں (خراج) اور قراقرم کے تجارتی راستوں کے ذریعے ریاست کی آمدنی کو تقویت دیتا تھا (Kreutzmann, 2004; Dani, 1991)۔ تصویر: جان ہل، ۲۰۱۲ (Hill, 2012 ) خلاصہ یہ مضمون سابقہ ریاست ہنزہ کے انتظامی آلات اور خارجی محصولاتی نیٹ ورکس کا جائزہ پیش کرتا ہے، جو سلسلہ کوہ قراقرم (موجودہ گلگت بلتستان، پاکستان) میں واقع ایک بلند پہاڑی ریاست تھی۔ حصہ اول میں سماجی طبقات اور محصول کی اقسام کا تجزیہ پیش کیا گیا تھا، جبکہ یہ مطالعہ ادارہ جاتی میکانزم اور سرحد پار تعلقات پر مرکوز ہے۔ نوآبادیاتی ریکارڈز، مقامی بیانیوں، بشریاتی مشاہدات، زبانی روایات، اور ثانوی مواد سے استفادہ کرتے ہوئے، مضمون یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ ریاست ہنزہ کا مالیاتی نظام دو جہتوں پر کام کرتا تھا: (۱) زرعی حصول کا اندرونی سلسلۂ مراتب جو میر کے دربار سے گاؤں کے عہدیداروں تک پھیلا تھا، اور (۲) چراگاہوں، خراج، اور قافلہ جات سے وابستہ محصولات کا خارجی نیٹ ورک جو پامیر اور ماورائے ق...