ایک فارسی قصیدے اور جامعۂ پشاور 1967ء کے جلسۂ تقسیمِ اسناد کا تاریخی و فکری مطالعہ
(Abstract) خلاصہ یہ مقالہ ایک فارسی قصیدے کی تاریخی، ادبی اور روحانی معنویت کا جائزہ پیش کرتا ہے، جسے ادبی روایت میں محمود الحسن کوکب دُری سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ قصیدہ ثقافتی حافظے میں جامعۂ پشاور کے 1967 ء کے اُس جلسۂ تقسیمِ اسناد سے وابستہ سمجھا جاتا ہے، جس میں شہزادہ کریم آغا خان چہارم کو اعزازی ڈاکٹریٹ عطا کی گئی تھی۔ شہزادہ کریم آغا خان چہارم یونیورسٹی آف پشاور کی کانووکیش (30 نومبر 1967) میں اعزازی ڈاکٹریٹ (LL.D.) حاصل کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ۔ Ismaili Heritage. (n.d.). Aga Khan IV delivering speech at University of Peshawar convocation (30 November 1967) [Photograph]. Facebook. https://www.facebook.com/IsmailiHeritage/posts/1176849434647659/ مطالعہ اس نظم کو اس کے سماجی، فکری اور تہذیبی تناظر میں رکھ کر دیکھتا ہے، جبکہ مستند تاریخی شواہد اور بعد ازاں تشکیل پانے والی ادبی نسبتوں کے درمیان واضح امتیاز قائم کرتا ہے۔ مزید برآں، پاکستان خصوصاً گلگت بلتستان اور چترال میں اجتماعی تعاون، سماجی ہم آہنگی، اور ثقافتی وابستگی کے پہلوؤں کو بھی اس فکری تسلسل کے اندر...