نوجوان–بالغ شراکت داری: گلگت بلتستان میں اخلاقی قیادت، ماحولیاتی نگہداشت اور پائیدار ترقی کا ایک ماڈل

نوجوان–بالغ شراکت داری: گلگت بلتستان میں اخلاقی قیادت، شمولیتی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کا ایک عملی ماڈل
خلاصہ (Abstract)
یہ مقالہ گلگت بلتستان میں نوجوان–بالغ شراکت داری (Youth–Adult Partnership: Y-AP) کو اخلاقی قیادت، شمولیتی ترقی اور ماحولیاتی ذمہ داری کے ایک عملی اور ابھرتے ہوئے ماڈل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مثبت نوجوان ترقی (Positive Youth Development) اور کمیونٹی سائیکالوجی کے نظریاتی فریم ورک کی روشنی میں یہ مطالعہ واضح کرتا ہے کہ بین النسلی اشتراک نوجوانوں کی اختراعی صلاحیتوں اور بالغ افراد کی تجرباتی و اخلاقی بصیرت کو یکجا کر کے کمیونٹی استحکام، موسمیاتی موافقت اور معاشی تنوع کو فروغ دیتا ہے۔ مقالہ مستند علمی حوالہ جات، علاقائی مثالوں اور پالیسی مضمرات کے ذریعے یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کے لیے پائیدار ترقی کی ایک عملی تجربہ گاہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ نوجوانوں کو فیصلہ سازی اور ماحولیاتی حکمرانی میں بامعنی شراکت دی جائے۔
1. تعارف
نوجوان–بالغ شراکت داری (Y-AP) ایک اشتراکی فریم ورک ہے جس میں نوجوان اور بالغ افراد فیصلہ سازی، منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے مراحل میں مساوی اور بامعنی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کی عملی تعریف کے مطابق، Y-AP وہ عمل ہے جس میں طاقت کی یکطرفہ تقسیم کے بجائے مشترکہ قیادت، باہمی احترام اور ذمہ داری کی شراکت کو فروغ دیا جائے (Zeldin, Christens, & Powers, 2013
گلگت بلتستان کا جغرافیائی اور سماجی تناظر اس ماڈل کے اطلاق کے لیے موزوں ہے۔ خطہ موسمیاتی تبدیلی، محدود معاشی وسائل اور جغرافیائی حساسیت جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔ ایسے حالات میں بین النسلی اشتراک ترقی کے ایک متوازن اور پائیدار راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔
2. اخلاقی قیادت اور شمولیتی ترقی کا نظریاتی تناظر
اخلاقی قیادت ترقی کے ایسے تصور سے وابستہ ہے جس میں انسانی وقار، شرکت اور اجتماعی بھلائی کو بنیادی اصول تسلیم کیا جائے۔ Aga Khan Development Network کے ترقیاتی فلسفے میں شمولیتی اور اشتراکی ترقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
Aga Khan IV نے فرمایا:
“ترقی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب وہ شمولیتی اور اشتراکی ہو اور ہر فرد کی شراکت کو اہمیت دے، خواہ اس کی عمر کچھ بھی ہو” (Aga Khan Development Network [AKDN], 2018
اسی تسلسل میں 2024 میں Aga Khan V نے اس امر پر زور دیا:
“معاشرے کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ نوجوانوں کو کس انداز سے تعلیم دی جاتی ہے اور کس حد تک انہیں اخلاقی سوچ، ذمہ دارانہ عمل اور اجتماعی بھلائی میں کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنایا جاتا ہے” (AKDN, 2024
یہ بیانات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ ترقی محض معاشی نمو نہیں بلکہ ایک اخلاقی و سماجی عمل ہے جس میں نوجوانوں کو فعال شریک کے طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے۔
3. نظریاتی بنیادیں: مثبت نوجوان ترقی اور کمیونٹی سائیکالوجی
Y-AP کی نظریاتی جڑیں مثبت نوجوان ترقی (PYD) اور کمیونٹی سائیکالوجی میں پیوست ہیں۔ Zeldin et al. (2013) کے مطابق نوجوان–بالغ شراکت داری نوجوانوں میں قیادت، سماجی ذمہ داری اور خود اعتمادی کو فروغ دیتی ہے، جبکہ کمیونٹی سطح پر اجتماعی کارکردگی کو مضبوط کرتی ہے۔
BMJ (2022) کے تحقیقی جائزے کے مطابق بین النسلی شراکت داری نوعمر افراد کی فلاح اور سماجی شمولیت میں نمایاں بہتری کا باعث بنتی ہے۔ Hunza، Gilgit، Ghizer، Nagar، Diamer اور Skardu جیسے اضلاع میں اس ماڈل کے عملی مظاہر نمایاں ہیں، جہاں نوجوان رضاکار تنظیمیں، مقامی کمیٹیاں اور ترقیاتی ادارے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔
4. ماحولیاتی چیلنجز اور موسمیاتی موافقت
گلگت بلتستان دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں گلیشیئر پگھلاؤ کی رفتار تیز ہو رہی ہے (Ali, 2024)۔ گلیشیائی جھیلوں کے اچانک پھٹنے (GLOFs)، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی خطرات مقامی آبادی کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔ 2025 میں شمالی پاکستان میں آنے والے سیلابوں نے اس حساسیت کو عالمی سطح پر اجاگر کیا (The Washington Post, 2025
ان حالات میں Y-AP کے تحت کمیونٹی بیسڈ ڈیزاسٹر رسپانس کمیٹیاں، شجرکاری مہمات اور صفائی پروگرام مؤثر حکمت عملی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نوجوان ڈیجیٹل میپنگ اور سوشل میڈیا آگاہی میں سرگرم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ بزرگ روایتی علم اور زمین کے پائیدار استعمال کی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
شکل 1: صفائی مہم میں اسماعیلی خواتین رضاکار

تصویر کا کیپشن: سوست، گوجال ہنزہ، گلگت بلتستان میں نوجوان–بالغ شراکت داری کے تحت صفائی مہم میں سرگرم اسماعیلی خواتین رضاکار (25 فروری 2026)۔ یہ سرگرمی بین النسلی اشتراک اور کمیونٹی سطح پر ماحولیاتی ذمہ داری کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ تصویر ایک مقامی رضاکار سے موصول شدہ (Community Volunteer, 2026

5. سیاحت، معیشت اور علاقائی تناظر
کمیونٹی بیسڈ سیاحت نے مقامی معیشت میں تنوع پیدا کیا ہے۔ ہوم اسٹے پروگرام اور ثقافتی میلوں کے ذریعے نوجوان ڈیجیٹل مارکیٹنگ مہارت فراہم کرتے ہیں، جبکہ بزرگ ثقافتی ورثے کے تحفظ میں رہنمائی کرتے ہیں۔
علاقائی سطح پر China–Pakistan Economic Corridor (CPEC) نے گلگت بلتستان کی اسٹریٹجک اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔ تاہم ترقیاتی منصوبوں میں مقامی شمولیت کی کمی سماجی تناؤ پیدا کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں Y-AP مقامی آواز کو ترقیاتی پالیسی سے جوڑنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے (The Citizen, 2025
6. ٹیکنالوجی اور اخلاقی جہات
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نئے مواقع فراہم کر رہی ہیں، لیکن ڈیجیٹل عدم مساوات اور ڈیٹا پرائیویسی جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں۔ بین النسلی شراکت داری ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک اخلاقی و عملی فریم ورک فراہم کرتی ہے (BMJ, 2022
7. پالیسی مضمرات
ضلعی سطح پر نوجوان نمائندگی کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔
تعلیمی نصاب میں کمیونٹی بیسڈ Y-AP پراجیکٹس شامل کیے جائیں۔
موسمیاتی مانیٹرنگ میں نوجوانوں کی رسمی شمولیت یقینی بنائی جائے۔
خواتین کی رضاکارانہ قیادت کو حکومتی معاونت فراہم کی جائے۔
8. نتیجہ (Conclusion)
نوجوان–بالغ شراکت داری گلگت بلتستان میں اخلاقی قیادت، ماحولیاتی نگہداشت اور پائیدار ترقی کے ایک مربوط ماڈل کے طور پر ابھر رہی ہے۔ یہ ماڈل واضح کرتا ہے کہ نوجوانوں کی جدت طرازی اور بالغ افراد کے تجربے کا امتزاج موسمیاتی موافقت، معاشی تنوع اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ گلگت بلتستان اس حوالے سے پاکستان کے لیے ایک قابلِ تقلید عملی مثال پیش کرتا ہے۔


حوالہ جات (References)
Aga Khan Development Network. (2018). Statements on participatory development. AKDN.

Aga Khan Development Network. (2024). Prince Rahim Aga Khan inaugurates new software technology park, Nasirabad, Gilgit-Baltistan. AKDN.

Ali, S. (2024). Climate change, glacial melt, and environmental risks in Gilgit-Baltistan. Asian Bulletin of Green Management, 16(3), 45–60.

BMJ. (2022). Building transformational intergenerational partnerships for adolescent wellbeing. BMJ, 379, e070678. https://doi.org/10.1136/bmj-2022-070678

Community Volunteer. (2026, February 25). Ismaili women volunteers participating in cleaning drive at Sost, Gojal Hunza [Photograph]. Unpublished photograph.

The Citizen. (2025). Border trade challenges and CPEC in Gilgit-Baltistan.

The Washington Post. (2025, August 30). Pakistan floods and climate change in Gilgit-Baltistan.

Zeldin, S., Christens, B. D., & Powers, J. L. (2013). The psychology and practice of youth–adult partnership: Bridging generations for youth development and community change. American Journal of Community Psychology, 51(3–4), 385–397. https://doi.org/10.1007/s10464-012-9558-y

Comments

Popular posts from this blog

Tagham: A Ploughing Festival Celebrating the Arrival of Spring

Becoming an Engaged Citizen: A Path to a Better Society

Revitalizing Endangered Languages: Bridging Tradition and Technology to Preserve Cultural Identity.