شمالی علاقہ جات - پاکستان میں پرنس کریم آغا خان چہارم کا تاریخی دورہ — ایک تبدیلی کی میراث
مولانا شاہ کریم الحسینی، پرنس کریم آغا خان چہارم، شیعہ اسماعیلی مسلمانوں کے 49ویں موروثی امام، نے 11 جولائی 1957 کو اپنے دادا سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کے بعد منصبِ امامت سنبھالا۔ اکتوبر 1960 میں انہوں نے شمالی پاکستان کا تاریخی دورہ کیا
. پرنس کریم آغا خان چہارم کا 1960 میں ھنزہ کے دورے کے دوران دیدار مبارک کی ایک یاد گار تصویر-
یہ دورہ محض ایک رسمی یا علامتی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ خطے کے لیے ایک تاریخی موڑ ثابت ہوا۔ اس دورہ مبارک نے نہ صرف ایک روحانی بیداری کی لہر پیدا کی، بلکہ یہ علاقے میں ہونے والی گہری معاشی، تعلیمی اور سماجی تبدیلیوں کی بنیاد بھی بنا۔ یہ پہلا موقع تھا جب چودہ صدیوں کے بعد کسی امام نے گلگت، ہنزہ اور غزر کی وادیوں میں قدم رکھا۔ امام وقت نے اپنی آنکھوں سے اس خطے کی پسماندگی اور محرومی کا مشاہدہ کیا، جسے انہوں نے بعد ازاں "انتہائی غربت" قرار دیا۔ یہی اولین مشاہدہ اور گہرا تاثر بعد ازاں ایک وسیع اور طویل المدتی ترقیاتی وژن کی تشکیل کا بنیادی محرک بنا-
تعلیم — ترقی کی پہلی بنیاد
پرنس کریم آغا خان چہارم کا یقین تھا کہ تعلیم ہی ترقی اور خود انحصاری کی اصل کنجی ہے۔ انہی کے وژن کے تحت آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان (AKES,P) نے شمالی علاقوں میں تعلیمی انقلاب برپا کیا۔ اسکولوں، ہائیر سیکنڈری اداروں، اور تربیت یافتہ اساتذہ کے نظام نے علاقے کے تعلیمی معیار کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مقامی نصاب سازی، لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ، اور تدریسی عملے کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت نے تعلیم کو ایک خواب سے حقیقت بنا دیا۔ ہنزہ اور غزر جیسے دور دراز علاقوں میں شرحِ خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا، اور علم عوامی بیداری کا استعارہ بن گیا۔
صحتِ عامہ — فلاحی خدمات کی بنیاد
تعلیم کے ساتھ ساتھ صحت کا شعبہ بھی امام کے وژن کا ایک اہم حصہ رہا۔ آغا خان ہیلتھ سروس، پاکستان (AKHS,P) نے شمالی پاکستان میں ایک منظم اور پائیدار صحتی نظام قائم کیا۔ گلگت میں جدید اسپتالوں، زچہ و بچہ مراکز، اور بنیادی صحت یونٹس کے قیام نے مقامی آبادی کو بہتر طبی سہولیات فراہم کیں۔
صحتِ عامہ کی مہمات، صاف پانی اور صفائی کے منصوبے (WASEP) نے بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کیا۔ ان تمام خدمات کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مذہب، قومیت یا زبان سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کے اصول پر مبنی ہیں۔
آغا خان فاؤنڈیشن (AKF) — جامع ترقی کا علمبردار
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کا ایک اہم ستون ہونے کے ناطے، آغا خان فاؤنڈیشن (AKF) نے شمالی پاکستان میں ترقی کے ہر پہلو کو براہ راست متاثر کیا ہے۔ AKF کا وژن محض منصوبوں تک محدود نہیں، بلکہ کمیونٹیز کو بااختیار بنانے اور پائیدار تبدیلی لانے پر مرکوز ہے۔
آغا خان فاؤنڈیشن کے ترقیاتی فلسفے کی سب سے کامیاب اور معروف عملی مثال 1982 میں قائم ہونے والا آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) ہے۔ یہ پروگرام درحقیقت AKF کے دیہی ترقی کے ماڈل کا نقطہ آغاز تھا، جس نے شمالی پاکستان کی معاشی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ AKRSP نے کمیونٹی تنظیموں کے ذریعے دیہی ترقی کے انقلابی ماڈلز متعارف کرائے جنہوں نے زراعت، آبپاشی، بجلی، اور مواصلات کے شعبوں میں تاریخی تبدیلیاں پیدا کیں۔
چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور مائیکروفنانس کے پروگراموں نے مقامی معیشت کو مضبوط بنایا۔ AKRSP کی کامیابی کا یہ عالم ہے کہ بعد ازاں ایشیا اور افریقہ کے متعدد ممالک نے اسی ماڈل کو اپنے دیہی ترقیاتی منصوبوں میں اپنایا۔ یہ پروگرام AKF کے وژن کی اس عملی تصدیق تھی کہ مقامی کمیونٹیز کو بااختیار بنانا ہی پائیدار ترقی کی کلید ہے۔
ثقافت اور ورثہ — شناخت کا احیاء
ثقافت کے فروغ میں آغا خان ٹرسٹ فار کلچر (AKTC) کا کردار کلیدی رہا۔ ہنزہ، شگر، خپلو، اور سکردو کے تاریخی قلعوں اور عمارات کی بحالی نے نہ صرف ثقافتی ورثے کو محفوظ کیا بلکہ سیاحت اور روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے۔
ثقافتی ورثے کی بحالی قلھ بلتت ھنزہ-
سیاحت اور مہمان نوازی — پائیدار ترقی کا نیا باب
حالیہ برسوں میں گلگت بلتستان میں Sreena Hotels Chain کی توسیع نے مقامی معیشت اور سیاحت کے شعبے میں ایک نیا دور شروع کیا ہے۔ اس چین نے ہنزہ، ، اور گلگت اوربلتستان جیسے علاقوں میں جدید سہولیات سے آراستہ ہوٹل اور سہو لیات قائم کیے ہیں جو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ مقامی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر کے Sreena نے ہنر مندی اور پیشہ ورانہ تربیت کے نئے دروازے کھولے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ،یہ ہوٹل چین مقامی ثقافت، ماحولیات، اور روایتی طرزِ تعمیر کے احترام کے اصول پر کام کر رہی ہے، جس سے پائیدار سیاحت (Sustainable Tourism) کو فروغ ملا ہے۔ Sreena Hotels کے منصوبوں نے شمالی پاکستان(گلگت بلتستان) میں معیارِ زندگی بہتر بنانے، کاروباری اعتماد بڑھانے، اور خطے کو عالمی سیاحتی نقشے پر اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
چترال کا پہلا دیدار — ایک نئی صبح کا آغاز
6 مارچ 1976 کو امامِ وقت نے چترال کے علاقے گرم چشمہ میں پہلی مرتبہ دیدار عطا فرمایا۔ اس موقع پر سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا: "چترال کی غربت کا خاتمہ حکومت اکیلے نہیں کر سکتی، میں پرنس آغا خان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ چترال آئیں اور مدد کریں۔" امام کی تشریف آوری کے وقت ہزاروں افراد نے برف صاف کر کے دیدارگاہ تیار کی۔ ایک عینی شاہد کے مطابق: "جب امامِ وقت نے سفید چوغہ زیبِ تن فرمایا تو اُس سے نور کی شعاعیں پھوٹتی محسوس ہوئیں — ایک ایسا منظر جو آج تک دلوں میں زندہ ہے۔" اس دورے کے بعد چترال میں AKF، AKRSP اور دیگر AKDN اداروں کے زیر اہتمام تعلیم، صحت، اور معیشت کے
میدانوں میں بےمثال ترقی دیکھی گئی۔
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) — عالمی اثرات
آغاخان چہارم کی قیادت میں قائم ہونے والا
آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) آج پچاس سے زائد ممالک میں سرگرمِ عمل ہے۔ یہ ادارہ تعلیم، صحت، معیشت، ثقافت، اور انسانی بہبود کے میدانوں میں عالمی سطح پر نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ پاکستان میں AKDN کے منصوبے حکومتی اشتراک سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کر چکے ہیں، جب کہ گلگت، ہنزہ، اور چترال میں یہ خود انحصاری اور اخلاقی ترقی کی مثال بنے ہوئے ہیں۔
قیادت اور میراث — ایک عالمی وژن
آغا خان چہارم نے یہ ثابت کیا کہ روحانیت اور ترقی متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ ان کی قیادت نے اسلام کی حقیقی روح — علم، انصاف، اور خدمت — کو عملی شکل دی۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں دنیا بھر کی حکومتوں نے انہیں اعزازات سے نوازا، جن میں ہلالِ امتیاز، لیجن آف آنر، اور اقوامِ متحدہ کا انسانی خدمت ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کی وفات 4 فروری 2025 کو لزبن (پرتگال) میں ہوئی، اور تدفین اسوان (مصر) میں عمل میں آئی۔ ان کے جانشین پرنس رحیم آغا خان نے فرمایا:
"میرے والد کی میراث علم، خدمت، اور تکثیریت کی تھی — اور یہ مشن ہمیشہ جاری رہے گا۔"
References
Aga Khan Development Network. (2017). Aga Khan Agency for Habitat and USAID sign agreement to create resilient communities in Shimshal Valley.
Aga Khan Development Network. (2025, February 5). His Highness Prince Karim Aga Khan IV, 1936–2025.
Aga Khan Foundation. (n.d.). Pakistan: Building resilient communities. Retrieved from https://the.akdn/en/where-we-work/south-asia/pakistan
Catalyst for change: How one visit by Aga Khan IV transformed entire districts in the 1960s. (2025, February 11). The Friday Times.
Death of His Highness The Aga Khan IV. (2025, February 4). Gerts Royals.
Funeral of the Aga Khan. (2025, February 8). The Royal Watcher.
His Highness the Aga Khan IV: Compassion, empathy, pluralism, and the global Ismaili community — Celebrating a remarkable servant. (2025, March 7). Simerg.
Ismaili.net. (n.d.). Aga Khan IV – Timeline – 1960.
Ismailimail. (2025, February 23). Portugal: President Marcelo Rebelo de Sousa – Prince Karim Aga Khan, a good friend of Portugal & a remarkable figure of a faith open to the world.
Merchant, M. (2025, February 8). A personal reflection on the funeral ceremony of His Highness the Aga Khan, the 49th Imam of the Ismaili Muslims. Barakah.
Sreena Hotels. (2024). Sreena Hotels: Expanding sustainable tourism in Gilgit-Baltistan. Retrieved from https://www.sreenahotels.com
Wikipedia. (2025, February 22). Aga Khan IV.







Indeed! We should always be thankful for what are blessed witn now is because of our Moula.
ReplyDeleteAbsoulately! Thanks🙏
DeleteNicely articulated sir, An era of change.
ReplyDeleteThanks dear Karim for your encouragement🙏
DeleteWe are thankful to Iman for all the blessings, a good read that highlights the role of Imam in GBC.
ReplyDeleteThanks dear for your encouraging words🙏
Delete