لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی: پاکستان کا خواندہ مستقبل کی جانب 60 سالہ سفر
خلاصۂ مضمون
پاکستان 2026ء میں عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالانہ یاد ایک ایسے تعلیمی منظرنامے کے ساتھ منا رہا ہے جس میں اہم پیش رفت بھی موجود ہے اور سنگین چیلنجز بھی۔ ملک میں خواندگی کی شرح گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں بڑھی ہے، لیکن لاکھوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں اور بڑی تعداد میں بالغ افراد بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم ہیں۔
UNESCO
کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 25.4 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ ملک کی خواندگی کی شرح تقریباً 62 فیصد کے آس پاس ہے۔
گلگت بلتستان اس قومی منظرنامے میں ایک منفرد تصویر پیش کرتا ہے۔ ہنزہ جیسے علاقوں میں تعلیم اور خواندگی کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں نظر آتی ہیں، جبکہ خطے کے بعض دوسرے علاقوں میں جغرافیائی دشواریوں، غربت، محدود بنیادی ڈھانچے اور خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تعلیمی محرومی برقرار ہے۔
یہ مضمون یونسکو کے 2026ء کے موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی‘‘ کے تناظر میں پاکستان کے خواندگی کے سفر کا جائزہ لیتا ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ خواندگی محض پڑھنے اور لکھنے کی فنی مہارت نہیں بلکہ انسانی وقار، بااختیاری، ماحولیاتی شعور، معاشی مواقع، سماجی ہم آہنگی، ذمہ دار شہریت اور پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
مضمون میں گلگت بلتستان کو خصوصی توجہ حاصل ہے، جہاں ہنزہ کی کامیابی اور بعض دوسرے علاقوں کی محرومی ایک ہی خطے میں موجود تعلیمی تفاوت کو نمایاں کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات میں علم کی اہمیت، ڈیجیٹل دور کے تقاضے، موسمیاتی خواندگی، زندگی بھر سیکھنے اور دنیا کے بعض کامیاب تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کے لیے خواندگی میں سرمایہ کاری محض تعلیمی شعبے میں سرمایہ کاری نہیں؛ یہ دراصل انسان، کرۂ ارض، خوش حالی اور امن میں سرمایہ کاری ہے۔
اہم اعداد و شمار ایک نظر میں
عالمی یومِ خواندگی: 8 ستمبر؛ 2026ء میں اس کی 60ویں سالگرہ/یاد منائی جا رہی ہے۔
2026ء کا عالمی موضوع: ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی‘‘۔
دنیا میں بنیادی خواندگی سے محروم نوجوان اور بالغ افراد: کم از کم 739 ملین (2024ء کے اعداد و شمار)۔
پاکستان میں 5–16 سال کے اسکول سے باہر بچے: تقریباً 25.4 ملین۔
پاکستان کی خواندگی کی شرح: تقریباً 62 فیصد، ماخذ اور تعریف کے لحاظ سے معمولی فرق ممکن ہے۔
پاکستان میں صنفی اور شہری و دیہی تفاوت: نمایاں اور مستقل مسئلہ۔
گلگت بلتستان: قومی اوسط سے بعض حوالوں سے بہتر تعلیمی اشاریے رکھنے کے باوجود اندرونی علاقائی تفاوت کا شکار۔
ہنزہ: دستیاب علاقائی معلومات کے مطابق پاکستان کے نمایاں خواندہ اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔
تعلیم کا معاشی فائدہ: اضافی تعلیم اور مہارتیں روزگار، آمدنی اور پیداواریت کے بہتر امکانات سے وابستہ ہیں۔
نوٹ: مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں عمر، سال، تعریف اور طریقۂ پیمائش کے فرق کی وجہ سے معمولی اختلاف ممکن ہے۔ اس لیے اس مضمون میں جہاں ضروری ہے وہاں ’’تقریباً‘‘ اور ’’دستیاب اعداد و شمار کے مطابق‘‘ کی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔
تعارف
ذرا ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں آپ سڑک پر نصب کسی رہنما بورڈ کو پڑھ نہ سکیں، دوا کی بوتل پر درج ہدایات سمجھ نہ سکیں، کسی سرکاری فارم کو پُر نہ کر سکیں یا اپنے بچے کے اسکول سے آنے والا پیغام نہ پڑھ سکیں۔ دنیا کے کروڑوں لوگوں کے لیے یہ محض تصور نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کی حقیقت ہے۔
یو نسکو کے مطابق دنیا میں کم از کم 739 ملین نوجوان اور بالغ افراد بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم ہیں۔
8 ستمبر 2026ء عالمی یومِ خواندگی کے قیام کی 60ویں سالگرہ کی ایک اہم یادگار ہے۔ UNESCO نے 1966ء میں اس دن کا اعلان کیا تھا اور اس کی سالانہ تقریبات 1967ء سے منعقد ہونا شروع ہوئیں۔ چھ دہائیوں کے اس سفر میں دنیا نے خواندگی کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن منزل ابھی دور ہے۔
2026
ء کا موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی‘‘ ہمیں خواندگی کے روایتی تصور سے آگے بڑھنے کی دعوت دیتا ہے۔ آج خواندگی کا مطلب صرف الفاظ پڑھ لینا نہیں؛ اس میں معلومات کو سمجھنا، تنقیدی طور پر جانچنا، ڈیجیٹل ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال، صحت و مالی معاملات کے بارے میں باخبر فیصلے کرنا، ماحول کو سمجھنا اور بدلتی ہوئی دنیا میں سیکھتے رہنا بھی شامل ہے۔
پاکستان کے لیے یہ موضوع خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لاکھوں بچے اب بھی اسکول سے باہر ہیں اور تعلیمی معیار، صنفی مساوات، شہری و دیہی تفاوت، اساتذہ کی تربیت، بنیادی سہولیات اور ڈیجیٹل رسائی جیسے مسائل موجود ہیں۔
UNESCO کے 2026ء کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں 5–16 سال کی عمر کے تقریباً 25.4 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔
شمالی پاکستان کا پہاڑی خطہ گلگت بلتستان اس بحث کو ایک منفرد مقامی تناظر فراہم کرتا ہے۔ یہاں بعض علاقوں نے تعلیم کے میدان میں قابلِ ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں، جبکہ بعض دوسرے علاقوں میں جغرافیائی، معاشی اور سماجی رکاوٹیں اب بھی موجود ہیں۔
یہ مضمون اسی سوال کا جائزہ لیتا ہے: کیا خواندگی پاکستان کے لیے صرف ایک تعلیمی ہدف ہے، یا ایک ایسے بہتر مستقبل کی بنیاد ہے جس میں انسان بااختیار، معاشرہ پُرامن، ماحول محفوظ اور معیشت زیادہ خوش حال ہو؟
خواندگی کو سمجھنا: محض پڑھنے اور لکھنے سے آگے
خواندگی کیا ہے؟
روایتی طور پر خواندگی سے مراد پڑھنے اور لکھنے کی بنیادی صلاحیت لی جاتی رہی ہے۔ جدید دنیا میں اس کا مفہوم کہیں وسیع ہو چکا ہے۔
ایک خواندہ فرد تحریری مواد کو پڑھ اور سمجھ سکتا ہے، بنیادی معلومات کی تشریح کر سکتا ہے، فارم اور درخواستیں پُر کر سکتا ہے، تحریری پیغام دے سکتا ہے اور روزمرہ زندگی میں معلومات کو مؤثر انداز میں استعمال کر سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور نے اس تصور میں ایک اور اہم جہت کا اضافہ کیا ہے۔ اب ڈیجیٹل خواندگی میں موبائل اور کمپیوٹر استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ معلومات تلاش کرنا، ان کی صحت جانچنا، غلط معلومات کو پہچاننا، آن لائن خطرات سے بچنا اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل شہری بننا بھی شامل ہے۔
اس لیے 21ویں صدی کی خواندگی کو تین سطحوں پر سمجھا جا سکتا ہے:
بنیادی خواندگی — پڑھنا، لکھنا اور حساب کرنا؛
عملی خواندگی — حاصل شدہ علم کو روزمرہ زندگی، صحت، مالی معاملات اور روزگار میں استعمال کرنا؛
ڈیجیٹل اور معلوماتی خواندگی — معلومات کی تلاش، جانچ، استعمال اور ڈیجیٹل دنیا میں ذمہ دارانہ شرکت۔
مصنوعی ذہانت اور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے دور میں یہ توسیع مزید اہم ہو گئی ہے۔ نوجوانوں کو صرف معلومات یاد کرانے کے بجائے انہیں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے، ڈیجیٹل مہارت اور مسلسل سیکھنے کے قابل بنانا ضروری ہے۔
خواندگی کیوں اہم ہے؟
خواندگی انسانی ترقی کی بنیادی بنیاد ہے۔
اول: خواندہ افراد اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ وہ سرکاری دستاویزات، قوانین، معاہدوں اور معلومات کو پڑھنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوم: خواندگی صحت سے متعلق فیصلوں میں مدد دیتی ہے۔ دوا کے لیبل، طبی ہدایات اور صحت سے متعلق معلومات کو سمجھنا خاندان کی فلاح و بہبود پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
سوم: خواندگی روزگار اور معاشی مواقع تک رسائی بڑھاتی ہے۔ تعلیم اور مہارتوں میں اضافہ بہتر روزگار اور آمدنی کے امکانات سے وابستہ ہے۔ ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کے تناظر میں تعلیم اور انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کی معاشی اہمیت پر زور دیا ہے۔
چہارم: خواندگی سماجی لچک پیدا کرتی ہے۔ قدرتی آفات، وباؤں، معاشی بحرانوں یا دیگر ہنگامی حالات میں معلومات کو سمجھنے اور درست فیصلے کرنے کی صلاحیت انتہائی اہم ہوتی ہے۔
پنجم: خواندگی ماحولیاتی شعور کو فروغ دیتی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کے بحران، قدرتی آفات اور پائیدار طرزِ زندگی سے متعلق معلومات کو سمجھنا افراد اور برادریوں کو بہتر فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔
خواندگی اور علم کی اسلامی بنیادیں
پاکستان کے تہذیبی اور نظریاتی پس منظر میں علم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے ابتدا ہی سے علم، غور و فکر اور فہم و ادراک کی حوصلہ افزائی کی ہے۔
قرآنِ کریم کی پہلی نازل ہونے والی آیات میں ارشاد ہے:
’’پڑھیے اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔‘‘
(القرآن، سورۃ العلق، 96:1)
وحی کے آغاز ہی میں ’’پڑھنے‘‘ کا پیغام اس امر کی علامت ہے کہ علم انسانی ترقی اور روحانی و اخلاقی تربیت دونوں کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ایک اور مقام پر قرآن سوال کرتا ہے:
’’کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘
(القرآن، سورۃ الزمر، 39:9)
یہ سوال علم کی قدر و منزلت کو نمایاں کرتا ہے۔
رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات میں بھی علم کے حصول کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلامی تہذیب کے مختلف ادوار میں تعلیم، طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور دیگر علوم میں مسلم اہلِ علم کی خدمات اس علمی روایت کا حصہ رہی ہیں۔
اسلامی علمی روایت سے پاکستان کے لیے ایک اہم سبق یہ ہے کہ دینی اقدار اور جدید علم کو باہم متصادم سمجھنے کے بجائے علم، اخلاق اور عملی مہارت کو ایک دوسرے کا معاون بنایا جائے۔
پاکستان میں دینی اور جدید تعلیم
پاکستان کا تعلیمی نظام متنوع ہے۔ سرکاری و نجی اسکولوں، دینی مدارس، فنی و پیشہ ورانہ اداروں اور اعلیٰ تعلیمی مراکز کے ذریعے مختلف طبقات کو تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔
مدارس نے بالخصوص بعض پسماندہ علاقوں میں تعلیم کی فراہمی میں تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جانب جدید معیشت کے تقاضے ایسے نصاب کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں زبان، ریاضی، سائنس، ٹیکنالوجی، تنقیدی سوچ اور عملی مہارتیں شامل ہوں۔
اس لیے اصل سوال دینی یا جدید تعلیم میں سے کسی ایک کے انتخاب کا نہیں بلکہ ایسے متوازن، معیاری اور جامع نظام کی تشکیل کا ہے جو مذہبی و ثقافتی اقدار کا احترام کرتے ہوئے جدید دنیا کے تقاضے بھی پورے کرے۔
لوگوں کے لیے خواندگی: بااختیاری اور انسانی حقوق
UNESCO کے 2026ء کے موضوع کا پہلا ستون افراد اور برادریوں کی بااختیاری ہے۔
خواندگی انسان کو محض معلومات نہیں دیتی؛ یہ اسے اپنی زندگی کے بارے میں زیادہ باخبر فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔
خواندگی بحیثیت انسانی حق
پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-A پانچ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کی ذمہ داری ریاست پر عائد کرتا ہے۔
اس آئینی عزم کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب ہم ان بچوں کو دیکھتے ہیں جو ابھی تک اسکول سے باہر ہیں۔
UNESCO کے 2026ء کے تجزیے کے مطابق پاکستان میں 5–16 سال کی عمر کے تقریباً 25.4 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ عدد صرف ایک شماریاتی مسئلہ نہیں؛ یہ کروڑوں نہیں بلکہ لاکھوں انفرادی زندگیوں، خوابوں اور مستقبل کے مواقع کا سوال ہے۔
پاکستان کی خواندگی کی صورتِ حال
پاکستان میں خواندگی کی شرح گزشتہ دہائیوں میں بہتر ہوئی ہے، لیکن مجموعی تصویر اب بھی تشویش کا تقاضا کرتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار اور بین الاقوامی ڈیٹا سیٹس میں عمر، سال اور پیمائش کے طریقۂ کار کے فرق کے باعث مختلف شرحیں سامنے آ سکتی ہیں۔ پاکستان کے موجودہ تعلیمی اعداد و شمار میں خواندگی کو عام طور پر 10 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد کی اس صلاحیت کے طور پر ناپا جاتا ہے کہ وہ ایک سادہ بیان کو سمجھ کر پڑھ اور لکھ سکیں۔
اس لیے خواندگی کے کسی بھی عدد کو استعمال کرتے وقت سال اور تعریف واضح کرنا ضروری ہے۔
یہ فرق ہمیں ایک اہم حقیقت بھی یاد دلاتا ہے: صرف ’’خواندہ‘‘ یا ’’ناخواندہ‘‘ کی دو سطحی درجہ بندی کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی جاننا ہوگا کہ بچے کیا پڑھ سکتے ہیں، کیا سمجھ سکتے ہیں، معلومات کو کیسے استعمال کرتے ہیں اور کیا وہ بدلتی ہوئی دنیا کے لیے ضروری مہارتیں رکھتے ہیں۔
صنف اور خواندگی: ایک گہرا جائزہ
پاکستان میں صنفی تفاوت خواندگی کے اہم چیلنجز میں شامل ہے۔ خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم کے راستے میں مختلف معاشی، جغرافیائی، سماجی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق رکاوٹیں موجود ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم میں اہم رکاوٹیں
غربت: محدود وسائل رکھنے والے خاندان بعض اوقات لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی ترجیح دیتے ہیں۔
فاصلہ اور تحفظ: دور دراز اسکول، محفوظ ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اور سلامتی کے خدشات والدین کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
بنیادی سہولیات: مناسب بیت الخلاء، پانی، بجلی اور محفوظ ماحول کی عدم دستیابی لڑکیوں کے اسکول میں برقرار رہنے پر اثر ڈال سکتی ہے۔
سماجی رویے: بعض علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق روایتی تصورات اب بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔
کم عمری کی شادی: بعض علاقوں میں کم عمری کی شادی تعلیم کے تسلسل کو متاثر کرتی ہے۔
ان رکاوٹوں کا حل صرف اسکول تعمیر کرنا نہیں؛ اس کے لیے خاندان، کمیونٹی، مقامی قیادت، اساتذہ اور حکومت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
میدانِ عمل سے ایک مثال
گلگت بلتستان کے بعض دور دراز علاقوں میں ایک لڑکی کے لیے اسکول تک پہنچنا خود ایک جدوجہد ہو سکتی ہے۔ کئی بچے طویل فاصلے پیدل طے کرتے ہیں، موسمی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور محدود سہولیات کے باوجود تعلیم جاری رکھتے ہیں۔
ایسی ہر طالبہ کی کہانی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ تعلیمی پالیسی کے پیچھے حقیقی انسان موجود ہیں۔ ایک اسکول، ایک استاد، ایک کتاب یا ایک محفوظ راستہ کسی بچے کے پورے مستقبل کو بدل سکتا ہے۔
اسی لیے تعلیمی منصوبہ بندی کو صرف عمارتوں اور داخلوں کی تعداد تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ رسائی، معیار، تحفظ، تسلسل اور سیکھنے کے نتائج سب کو برابر اہمیت دینی چاہیے۔
نا خواندگی کی قیمت
فرد کے لیے ناخواندگی محدود روزگار، معلومات تک کم رسائی، استحصال کے زیادہ خطرے اور دوسروں پر زیادہ انحصار کا سبب بن سکتی ہے۔
معاشرے کے لیے اس کے نتائج زیادہ وسیع ہیں:
کمزور انسانی سرمایہ؛
کم معاشی پیداواریت؛
زیادہ غربت؛
محدود شہری شرکت؛
صنفی عدم مساوات؛
کمزور سماجی لچک؛
اور ترقی کے مواقع سے محرومی۔
لہٰذا خواندگی پر خرچ کو صرف اخراجات کے طور پر دیکھنا درست نہیں۔ یہ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری ہے۔
قومی عزم
پاکستان میں خواندگی اور تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف ادوار میں متعدد قومی پالیسیاں، پروگرام اور اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ پالیسی، مالی وسائل، ادارہ جاتی صلاحیت، اساتذہ کی تربیت، نگرانی اور مقامی سطح پر عمل درآمد ایک دوسرے سے کس قدر مربوط ہیں۔
اس سلسلے میں ’’ہر شخص ایک فرد کو پڑھائے‘‘ جیسے تصورات معاشرے کو محض حکومتی پروگرام کا منتظر رہنے کے بجائے اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلا سکتے ہیں۔
تاہم رضاکارانہ مہمات سرکاری تعلیمی نظام کا متبادل نہیں۔ ان کا بہترین کردار ریاستی کوششوں کی تکمیل اور ان افراد تک رسائی ہے جو رسمی نظام سے باہر رہ گئے ہیں۔
کرۂ ارض کے لیے خواندگی: ماحول کا تحفظ
UNESCO کے 2026ء کے موضوع کا دوسرا ستون کرۂ ارض سے متعلق ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ماحولیاتی اور موسمیاتی خواندگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے۔ ایک باخبر آبادی:
ہنگامی انتباہات کو سمجھ سکتی ہے؛
قدرتی آفات کے خطرات کو پہچان سکتی ہے؛
پانی کے بہتر استعمال کے طریقے اپنا سکتی ہے؛
پائیدار زراعت کو فروغ دے سکتی ہے؛
فضلہ اور آلودگی کم کر سکتی ہے؛
اور ماحولیاتی پالیسیوں پر بامعنی گفتگو کر سکتی ہے۔
پاکستان کے 2022ء کے سیلاب نے موسمیاتی خطرات کی سنگینی کو نمایاں کیا۔ ایسے حالات میں موسمیاتی خواندگی محض ایک تعلیمی موضوع نہیں بلکہ بقا، تحفظ اور اجتماعی لچک کا مسئلہ ہے۔
گلگت بلتستان میں موسمیاتی خواندگی
گلگت بلتستان کے پہاڑی ماحول میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ گلیشیائی نظام، پانی کی دستیابی، زراعت، قدرتی آفات، لینڈ سلائیڈنگ اور بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے تناظر میں مقامی آبادیوں کے لیے سائنسی معلومات کو قابلِ عمل مقامی علم میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
خطے میں ماحولیاتی تعلیم کو صرف کتابی مضمون بنانے کے بجائے روزمرہ زندگی سے جوڑنا چاہیے:
پانی کے تحفظ؛
درختوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ؛
سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے بچاؤ؛
کچرے کے بہتر انتظام؛
مقامی حیاتیاتی تنوع؛
اور موسمیاتی تبدیلی کے مطابق زرعی طریقوں سے۔
یہی عملی موسمیاتی خواندگی ہے۔
خواندگی کو ماحولیاتی عمل سے جوڑنا
اگر کوئی طالب علم موسمیاتی تبدیلی کی تعریف تو جانتا ہو لیکن اپنے علاقے میں پانی کے بحران، سیلاب یا لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کو سمجھ کر عملی فیصلہ نہ کر سکے تو اس کا علم محدود رہ جاتا ہے۔
اس لیے اسکولوں اور بالغ خواندگی پروگراموں میں مقامی ماحولیاتی مسائل کو شامل کرنا زیادہ مؤثر ہو سکتا ہے۔
ہنزہ جیسے علاقوں میں مقامی ماحول سے متعلق تعلیم کو اسکول، کمیونٹی اور روزمرہ زندگی سے جوڑنے کے تجربات اس بات کی مثال فراہم کرتے ہیں کہ ماحولیاتی تعلیم کس طرح مقامی لچک کو مضبوط کر سکتی ہے۔
خوش حالی کے لیے خواندگی: مضبوط معیشت کی تعمیر
UNESCO کے موضوع کا تیسرا ستون خوش حالی ہے۔
خواندگی معاشی ترقی کے لیے کئی راستے کھولتی ہے۔ خواندہ اور ہنرمند فرد:
روزگار کے مواقع تلاش کر سکتا ہے؛
درخواست اور معاہدے سمجھ سکتا ہے؛
کاروباری معلومات استعمال کر سکتا ہے؛
مالی خدمات تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؛
نئی مہارتیں سیکھ سکتا ہے؛
اور بدلتی ہوئی ملازمتوں کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھال سکتا ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق تعلیم میں سرمایہ کاری انسانی سرمائے، آمدنی اور قومی پیداواریت کے لیے اہم ہے۔ پاکستان میں بھی اضافی تعلیم، خصوصاً لڑکیوں کی تعلیم، مستقبل کی آمدنی اور معاشی شرکت کے بہتر امکانات سے وابستہ ہے۔
آبادیاتی موقع
پاکستان ایک بڑی نوجوان آبادی رکھنے والا ملک ہے۔ یہ نوجوان آبادی ایک عظیم معاشی موقع بن سکتی ہے، لیکن صرف اسی وقت جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ڈیجیٹل مہارت، پیشہ ورانہ تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
اگر نوجوان مناسب تعلیم اور مہارت حاصل نہ کر سکیں تو یہی آبادی روزگار، غربت اور سماجی دباؤ کے مسائل میں اضافہ بھی کر سکتی ہے۔
لہٰذا آبادیاتی منافع خود بخود حاصل نہیں ہوتا؛ اسے تعلیم، صحت، مہارت اور روزگار کے ذریعے تعمیر کرنا پڑتا ہے۔
ڈیجیٹل خواندگی کی ناگزیر ضرورت
آج موبائل فون اور انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی کو پہلے سے کہیں آسان بنا دیا ہے، لیکن رابطے کی سہولت خود بخود ڈیجیٹل خواندگی پیدا نہیں کرتی۔
ڈیجیٹل خواندگی میں شامل ہیں:
بنیادی ڈیجیٹل مہارتیں؛
معلومات تلاش کرنا؛
معلومات کے ذرائع کی جانچ؛
غلط معلومات اور گمراہ کن مواد کی شناخت؛
آن لائن فراڈ سے بچاؤ؛
رازداری اور سائبر تحفظ؛
مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال کی سمجھ؛
اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہریت۔
آج ایک شخص موبائل فون استعمال کر سکتا ہے لیکن پھر بھی ڈیجیٹل طور پر ناخواندہ ہو سکتا ہے اگر وہ آن لائن معلومات کی صحت جانچنے یا خطرات سے بچنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو۔
اسی لیے مستقبل کی خواندگی میں میڈیا، معلومات اور ڈیجیٹل خواندگی کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
امن اور شہریت کے لیے خواندگی
خواندگی کا تعلق صرف روزگار اور امتحانات سے نہیں۔ یہ ایک پُرامن اور ذمہ دار معاشرے کی تعمیر میں بھی کردار ادا کرتی ہے۔
خواندہ اور معلوماتی طور پر بااختیار شہری:
معلومات کا تنقیدی جائزہ لے سکتا ہے؛
افواہ اور حقیقت میں فرق کرنے کی کوشش کر سکتا ہے؛
اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ سکتا ہے؛
عوامی گفتگو میں حصہ لے سکتا ہے؛
مختلف نقطۂ نظر سن سکتا ہے؛
اور اختلاف کو پُرامن طریقے سے بیان کر سکتا ہے۔
تعلیم کسی معاشرے میں خود بخود امن پیدا نہیں کرتی، لیکن تنقیدی سوچ، مکالمے، باہمی احترام اور اختلافِ رائے کے پُرامن طریقوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
گلگت بلتستان جیسے ثقافتی اور لسانی تنوع رکھنے والے خطے میں تعلیم مختلف برادریوں کے درمیان باہمی فہم اور احترام کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
میڈیا اور معلوماتی خواندگی
سوشل میڈیا کے دور میں معلومات کی مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ غلط معلومات، گمراہ کن مواد اور جذباتی پروپیگنڈا بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
میڈیا اور معلوماتی خواندگی شہریوں کو یہ سوال پوچھنے کی تربیت دیتی ہے:
یہ معلومات کہاں سے آئی؟
اس کا ثبوت کیا ہے؟
کیا دوسرے معتبر ذرائع بھی یہی بات کہتے ہیں؟
کیا تصویر یا ویڈیو کا سیاق و سباق درست ہے؟
کیا یہ خبر ہے یا رائے؟
یہ مہارتیں جمہوری معاشرے کے لیے اتنی ہی اہم ہیں جتنی روایتی خواندگی۔
گلگت بلتستان: کامیابی اور تفاوت کی تصویر
گلگت بلتستان خواندگی کے حوالے سے ایک دلچسپ اور متنوع تصویر پیش کرتا ہے۔
ہنزہ کو تعلیم کے میدان میں پاکستان کے نمایاں علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں تعلیم کو سماجی قدر حاصل ہے، کمیونٹی کی شمولیت نسبتاً مضبوط ہے اور سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں نے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا ہے۔
دوسری طرف، خطے کے بعض اضلاع میں جغرافیائی دشواریاں، غربت، اسکولوں تک محدود رسائی، بنیادی سہولیات کی کمی اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق سماجی رکاوٹیں زیادہ نمایاں ہیں۔
اس لیے گلگت بلتستان کو ایک ہی عدد سے سمجھنا مناسب نہیں۔ اصل کہانی ضلع، جنس، دیہی و شہری مقام، عمر اور معاشی پس منظر کے لحاظ سے مختلف ہو سکتی ہے۔
ہنزہ کی کامیابی سے کیا سیکھا جا سکتا ہے؟
ہنزہ کے تجربے سے چند اہم اسباق سامنے آتے ہیں:
تعلیم کو سماجی ترجیح بنانا؛
والدین اور کمیونٹی کی فعال شرکت؛
لڑکیوں کی تعلیم کی حمایت؛
اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی؛
اسکولوں اور کمیونٹی کے درمیان مضبوط تعلق؛
مقامی سطح پر تعلیمی قیادت؛
اور تعلیم کو مستقبل کے مواقع سے جوڑنا۔
یہ عوامل کسی ایک ادارے یا تنظیم سے منسوب نہیں کیے جا سکتے۔ تعلیمی کامیابی عام طور پر ریاست، کمیونٹی، خاندان، اساتذہ اور ترقیاتی شراکت داروں کے مشترکہ عمل کا نتیجہ ہوتی ہے۔
دیامر اور دیگر محروم علاقوں کا چیلنج
گلگت بلتستان کے بعض اضلاع، خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں، تعلیم کے حوالے سے مختلف مشکلات موجود ہیں۔
ان میں:
جغرافیائی تنہائی
پہاڑی راستے، بکھری ہوئی آبادیاں اور موسمی رکاوٹیں اسکول تک رسائی مشکل بنا سکتی ہیں۔
غربت
کم آمدنی والے خاندان بچوں کی تعلیم، سفر، کتابوں اور دیگر اخراجات برداشت کرنے میں مشکلات محسوس کر سکتے ہیں۔
لڑکیوں کی تعلیم
فاصلہ، تحفظ، روایتی رویے اور مناسب سہولیات کی کمی لڑکیوں کے تعلیمی تسلسل کو متاثر کر سکتی ہے۔
اساتذہ کی دستیابی
دور دراز علاقوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کو برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج ہے۔
تعلیمی معیار
اسکول کی موجودگی خود بخود معیاری تعلیم کی ضمانت نہیں دیتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ بچے وہاں کیا اور کتنا سیکھ رہے ہیں۔
معیارِ تعلیم: صرف اسکول میں داخلہ کافی نہیں
پاکستان کے تعلیمی بحران کو صرف ’’اسکول سے باہر بچوں‘‘ کے مسئلے تک محدود کرنا مناسب نہیں۔
ایک بچہ اسکول میں داخل تو ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنی جماعت کے مطابق پڑھنے، سمجھنے، حساب کرنے یا مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت حاصل نہ کرے تو تعلیمی نظام کا مقصد مکمل نہیں ہوتا۔
اس لیے تعلیمی پالیسی میں تین سوال بنیادی ہونے چاہئیں:
کون اسکول میں ہے؟
کون اسکول مکمل کر رہا ہے؟
اور اسکول سے نکلتے وقت کون حقیقی معنوں میں سیکھ چکا ہے؟
اعلیٰ تعلیم کا خلا
گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع گزشتہ برسوں میں بڑھے ہیں، لیکن خطے کی جغرافیائی ضروریات اور نوجوان آبادی کے مقابلے میں مزید توسیع کی گنجائش موجود ہے۔
طبی تعلیم، انجینئرنگ، تحقیق، ٹیکنالوجی اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں مقامی مواقع بڑھانے سے نوجوانوں اور خاندانوں پر بیرونِ خطہ تعلیم کے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کے مضبوط ادارے صرف ڈگریاں فراہم نہیں کرتے؛ وہ مقامی مسائل پر تحقیق، روزگار، کاروبار، جدت اور انسانی وسائل کی تعمیر کے مراکز بھی بنتے ہیں۔
دنیا کے کامیاب تجربات سے سیکھنے کا عمل
پاکستان کو دوسرے ممالک کے تجربات کی نقل نہیں کرنی چاہیے، لیکن ان سے اصول ضرور سیکھنے چاہئیں۔
بنگلہ دیش: کمیونٹی پر مبنی تعلیم
بنگلہ دیش کے مختلف غیر رسمی تعلیمی ماڈلز سے یہ سبق ملتا ہے کہ لچک دار اوقات، مقامی سطح پر اساتذہ کی تیاری اور کمیونٹی کی شمولیت ان بچوں تک پہنچنے میں مدد دے سکتی ہے جو رسمی اسکولنگ سے باہر رہ جاتے ہیں۔
سری لنکا: پالیسی کا تسلسل
سری لنکا کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مسلسل تعلیمی سرمایہ کاری، پالیسی کا تسلسل، اساتذہ کی تربیت اور وسیع تر عوامی رسائی طویل مدت میں خواندگی کو بلند سطح تک پہنچا سکتی ہے۔
دیگر تجربات
کیوبا کی بڑے پیمانے کی خواندگی مہم، جنوبی کوریا کی تعلیم پر مبنی معاشی تبدیلی، روانڈا کی بعد از تنازع تعلیمی تعمیرِ نو اور بعض ممالک کے ڈیجیٹل خواندگی پروگرام پاکستان کے لیے مختلف نوعیت کے اسباق پیش کرتے ہیں۔
اصل سبق یہ ہے کہ کوئی ایک ماڈل پاکستان کے تمام علاقوں کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
پاکستان کو قومی پالیسی کے ساتھ مقامی حل درکار ہیں۔
پاکستان کے لیے بنیادی اسباق
دنیا کے تجربات سے کم از کم سات اہم اسباق اخذ کیے جا سکتے ہیں:
غیر رسمی اور دوسری مرتبہ تعلیم کے مواقع مؤثر ہو سکتے ہیں۔
کمیونٹی کی شمولیت پائیدار کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
ریڈیو، موبائل اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی دور دراز علاقوں تک رسائی بڑھا سکتی ہے۔
اساتذہ کا معیار تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
تعلیم کو روزگار اور معاشی مواقع سے جوڑنا ضروری ہے۔
پالیسی کا تسلسل اور مستقل سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
لڑکیوں، خواتین، معذور افراد، غریب خاندانوں اور دور دراز آبادیوں کے لیے مساوی مواقع ضروری ہیں۔
شراکت دار اور ان کے کردار
حکومت
وفاقی حکومت پالیسی، قومی ترجیحات، بین الصوبائی رابطہ کاری اور مالی فریم ورک میں کردار ادا کرتی ہے۔ صوبائی اور علاقائی حکومتیں عمل درآمد، اساتذہ، اسکول انتظامیہ اور مقامی تعلیمی خدمات میں مرکزی کردار رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی شراکت دار
UNESCO، UNICEF، World Bank اور دیگر ترقیاتی ادارے تکنیکی معاونت، تحقیق، مالی معاونت، پالیسی مشاورت اور مخصوص پروگراموں میں تعاون فراہم کر سکتے ہیں۔
سول سوسائٹی
NCHD، The Citizens Foundation، مقامی غیر سرکاری تنظیمیں اور دیگر ادارے کمیونٹی کی سطح پر تعلیم، خواندگی اور سماجی متحرک کاری میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ترقیاتی ادارے
Aga Khan Development Network جیسے ادارے، خصوصاً گلگت بلتستان میں، اسکولوں، کمیونٹی شمولیت، اساتذہ کی ترقی اور تعلیمی معیار کے حوالے سے اہم تجربہ رکھتے ہیں۔
نجی شعبہ
EdTech ادارے ڈیجیٹل تعلیم کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ٹیلی کام کمپنیاں کم لاگت رابطہ اور موبائل لرننگ کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ کاروباری ادارے سماجی ذمہ داری کے تحت تعلیمی منصوبوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔
خاندان اور کمیونٹی
والدین بچوں کی تعلیم کے پہلے اور مستقل شراکت دار ہیں۔ کمیونٹی رہنما، مذہبی رہنما، نوجوان، خواتین کے گروہ اور مقامی رضاکار تعلیم کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔
تنازعات اور چیلنجز: ایک متوازن جائزہ
پاکستان کے تعلیمی نظام پر تنقید ضروری ہے، لیکن اس تنقید کو شواہد پر مبنی اور متوازن ہونا چاہیے۔
مقدار اور معیار
صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں۔ اساتذہ کی حاضری، تربیت، تدریسی معیار، سیکھنے کے نتائج، نصاب اور نگرانی بھی اتنے ہی اہم ہیں۔
سرکاری اور نجی تعلیم
نجی اسکولوں نے بہت سے علاقوں میں تعلیمی مواقع بڑھائے ہیں، لیکن مختلف طبقات کے درمیان معیار اور استطاعت کا فرق بھی موجود ہے۔
مقصد سرکاری اور نجی تعلیم کو ایک دوسرے کا حریف بنانا نہیں بلکہ ہر بچے کے لیے معیاری تعلیم کو یقینی بنانا ہونا چاہیے۔
زبان اور ذریعۂ تعلیم
پاکستان میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں کے درمیان تعلیمی توازن ایک اہم مسئلہ ہے۔
بچے ابتدائی مراحل میں اس زبان میں بہتر سیکھ سکتے ہیں جسے وہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اردو قومی رابطے اور انگریزی اعلیٰ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور عالمی مواقع کے لیے اہم ہے۔
اس لیے ایک متوازن کثیر لسانی تعلیمی حکمتِ عملی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے، جس میں مقامی زبانوں کا احترام اور قومی و عالمی زبانوں کی مناسب تدریس شامل ہو۔
وسائل کی غیر مساوی تقسیم
شہری اور دور دراز علاقوں کے درمیان اسکول، اساتذہ، ٹیکنالوجی، بنیادی سہولیات اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں فرق کو کم کرنا ضروری ہے۔
زندگی بھر سیکھنے کا تصور
خواندگی صرف بچپن کا منصوبہ نہیں۔
UNESCO کے مطابق زندگی بھر سیکھنا ایک ایسا مسلسل عمل ہے جو پوری زندگی جاری رہتا ہے۔ آج ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور روزگار کی بدلتی ہوئی نوعیت نے اسے مزید اہم بنا دیا ہے۔
Jacques Delors کی معروف رپورٹ نے تعلیم کے چار بنیادی ستون بیان کیے:
جاننے کے لیے سیکھنا
کرنے کے لیے سیکھنا
مل جل کر رہنے کے لیے سیکھنا
بننے کے لیے سیکھنا
یہ چاروں ستون آج بھی تعلیم کے لیے ایک مفید فکری فریم ورک فراہم کرتے ہیں۔
ایک ایسا کارکن جو 20 سال پہلے کسی ایک ہنر کے ساتھ ملازمت میں داخل ہوا تھا، ممکن ہے آج نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے دوبارہ سیکھنے پر مجبور ہو۔ اسی لیے زندگی بھر سیکھنے کی ثقافت مستقبل کی معاشی بقا کا اہم حصہ ہے۔
بین النسلی فوائد
جب والدین تعلیم یافتہ اور سیکھنے کے عمل میں فعال ہوتے ہیں تو بچوں کے لیے بھی تعلیمی ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔
ایک ماں جو اپنے بچے کا ہوم ورک سمجھنے کے قابل ہو، ایک والد جو اسکول کی اطلاع پڑھ سکے، ایک نوجوان جو اپنے گاؤں میں دوسروں کو ڈیجیٹل معلومات استعمال کرنا سکھائے- یہ سب خواندگی کے بین النسلی اثرات کی مثالیں ہیں۔
اسی لیے بالغوں کی خواندگی پر سرمایہ کاری دراصل اگلی نسل میں سرمایہ کاری بھی ہے۔
سفارشات: عملی لائحۂ عمل
قلیل مدتی اقدامات: 1 تا 3 سال
اسکول سے باہر بچوں کے لیے ضلعی سطح پر درست اور تازہ ڈیٹا تیار کیا جائے۔
غیر رسمی، Accelerated Learning اور دوسری مرتبہ تعلیم کے پروگرام وسیع کیے جائیں۔
لڑکیوں کی تعلیم کے لیے محفوظ راستے، ٹرانسپورٹ، بنیادی سہولیات اور مناسب مالی ترغیبات فراہم کی جائیں۔
اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کو تعلیمی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا جائے۔
اسکولوں میں پانی، بجلی، بیت الخلاء اور بنیادی حفاظتی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔
بالغوں کی خواندگی کے پروگراموں کو مقامی کمیونٹی کی ضرورت سے جوڑا جائے۔
تعلیمی نگرانی کو حاضری کے بجائے حقیقی سیکھنے کے نتائج پر بھی مرکوز کیا جائے۔
درمیانی مدت: 3 تا 5 سال
تمام تعلیمی پروگراموں میں ڈیجیٹل اور میڈیا و معلوماتی خواندگی شامل کی جائے۔
موسمیاتی خطرات سے دوچار علاقوں میں موسمیاتی خواندگی کے مقامی پروگرام شروع کیے جائیں۔
پیشہ ورانہ تعلیم اور خواندگی کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے۔
گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیم، طبی تعلیم اور تحقیق کے مواقع کو وسعت دی جائے۔
نصاب کو جدید، متعلقہ اور مہارت پر مبنی بنایا جائے۔
تعلیمی اعداد و شمار اور نگرانی کے نظام کو مضبوط کیا جائے۔
محروم اضلاع کے لیے وسائل کی ترجیحی اور شفاف تقسیم کی جائے۔
طویل مدتی اقدامات: 5 تا 10 سال
2030ء تک عالمگیر بنیادی تعلیم کے حصول کی سمت قابلِ پیمائش پیش رفت کی جائے۔
قومی سطح پر زندگی بھر سیکھنے کا نظام تشکیل دیا جائے۔
ہر ضلع میں مطالعہ، کتب خانوں اور کمیونٹی لرننگ مراکز کو فروغ دیا جائے۔
مردوں اور خواتین کے درمیان خواندگی کے فرق کو مسلسل کم کیا جائے۔
دور دراز علاقوں میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور تحقیق کے مراکز کو وسعت دی جائے۔
تعلیمی پالیسی سازی کو قابلِ اعتماد شواہد اور مقامی ڈیٹا سے جوڑا جائے۔
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کے دور کے لیے قومی سطح پر نئی خواندگی کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔
گلگت بلتستان کے لیے خصوصی ترجیحات
گلگت بلتستان کے مخصوص جغرافیائی اور سماجی حالات کو دیکھتے ہوئے پانچ ترجیحات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں:
1. ہنزہ کے تجربات سے سیکھنا
ہنزہ کی کامیابی کو نقل کرنے کے بجائے اس کے بنیادی اصول—کمیونٹی شمولیت، تعلیم کی سماجی قدر، والدین کی شرکت اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی- کو دوسرے علاقوں کے مقامی حالات کے مطابق اختیار کیا جائے۔
2. محروم اضلاع کے لیے خصوصی تعلیمی پیکیج
دور دراز علاقوں میں اسکول، اساتذہ، ٹرانسپورٹ، ڈیجیٹل رابطہ اور بنیادی سہولیات کے لیے اضافی وسائل فراہم کیے جائیں۔
3. لڑکیوں کی تعلیم
خواتین اساتذہ، محفوظ اسکول، مناسب بیت الخلاء، ٹرانسپورٹ اور کمیونٹی آگاہی کو ترجیح دی جائے۔
4. موسمیاتی تعلیم
اسکولوں اور کمیونٹی پروگراموں میں گلیشیائی جھیلوں کے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، پانی کے تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی کو مقامی مثالوں کے ساتھ شامل کیا جائے۔
5. اعلیٰ تعلیم
طبی، فنی، سائنسی اور ڈیجیٹل شعبوں میں مقامی اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع بڑھائے جائیں۔
آپ کیا کر سکتے ہیں؟
خواندگی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔
آپ:
کسی مقامی خواندگی پروگرام میں رضاکارانہ خدمات انجام دے سکتے ہیں؛
کم وسائل رکھنے والے اسکولوں کو کتابیں فراہم کر سکتے ہیں؛
کسی بچے کی تعلیم میں معاونت کر سکتے ہیں؛
نوجوانوں کی رہنمائی اور سرپرستی کر سکتے ہیں؛
اپنے خاندان میں مطالعے کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں؛
بزرگوں یا بالغ افراد کو بنیادی یا ڈیجیٹل مہارتیں سکھا سکتے ہیں؛
غلط معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی تصدیق کر سکتے ہیں؛
اور اپنے علاقے میں تعلیم کے حق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔
ایک شخص ایک بچے کو پڑھا سکتا ہے۔
ایک استاد ایک پوری نسل کو متاثر کر سکتا ہے۔
ایک کمیونٹی پورے علاقے کا تعلیمی مستقبل بدل سکتی ہے۔
اختتامیہ
2026ء میں عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ گزشتہ چھ دہائیوں کی کامیابیوں کو یاد کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے ایک مضبوط دعوتِ عمل بھی ہے۔
دنیا نے خواندگی میں نمایاں پیش رفت کی ہے، لیکن کروڑوں انسان اب بھی بنیادی خواندگی سے محروم ہیں۔ UNESCO کے مطابق کم از کم 739 ملین نوجوان اور بالغ افراد اب بھی بنیادی خواندگی کی مہارتوں سے محروم ہیں۔
پاکستان کے لیے چیلنج اور بھی اہم ہے۔ تقریباً 25.4 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔
گلگت بلتستان ہمیں اس مسئلے کی ایک اہم تصویر دکھاتا ہے۔ ہنزہ کی تعلیمی کامیابیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ محدود جغرافیائی حالات کے باوجود نمایاں پیش رفت ممکن ہے۔ دوسری طرف خطے کے بعض محروم علاقوں کے مسائل ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کامیابی کو ہر بچے اور ہر برادری تک پہنچانا ابھی باقی ہے۔
خواندگی کو صرف اسکول، کتاب اور امتحان تک محدود کرنا اس کے حقیقی مفہوم کو محدود کرنا ہے۔
خواندگی انسان کو اپنے حقوق سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
خواندگی صحت کے بہتر فیصلوں کا راستہ کھولتی ہے۔
خواندگی روزگار اور خوش حالی کے مواقع بڑھاتی ہے۔
خواندگی ماحول کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
خواندگی غلط معلومات کے خلاف ایک دفاع فراہم کرتی ہے۔
خواندگی مکالمے، برداشت اور ذمہ دار شہریت کو مضبوط کر سکتی ہے۔
اسی لیے پاکستان کو خواندگی کو ایک قومی انسانی سرمائے کی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
آخری غور و فکر
پاکستان آج ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔
ہمارے سامنے انتخاب واضح ہے:
یا تو ہم خواندگی میں سرمایہ کاری کریں، یا ناخواندگی کی قیمت ادا کرتے رہیں۔
اس قیمت میں ضائع ہوتی انسانی صلاحیتیں، محدود معاشی مواقع، بڑھتی ہوئی عدم مساوات، کمزور سماجی لچک اور ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی کم صلاحیت شامل ہو سکتی ہے۔
قرآنِ کریم ہمیں علم کی جستجو کی طرف متوجہ کرتا ہے:
’’اور کہیے: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔‘‘
(القرآن، سورۃ طٰہٰ، 20:114)
یہ دعا صرف فرد کے لیے نہیں بلکہ ایک قوم کے لیے بھی ایک خوب صورت رہنما اصول بن سکتی ہے۔
ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں ہر بچہ پڑھ سکے، ہر نوجوان سیکھ سکے، ہر بالغ باوقار زندگی گزار سکے، ہر عورت اور مرد کو علم تک مساوی رسائی حاصل ہو، ہر برادری اپنے مستقبل کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکے، اور ہر شہری علم کو اپنی ترقی اور اپنے معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کر سکے۔
ہنزہ کی کامیابی ہمیں بتاتی ہے کہ راستہ موجود ہے۔
پاکستان کا اصل چیلنج یہ ہے کہ اس راستے کو سب کے لیے قابلِ رسائی بنایا جائے۔
خواندگی میں سرمایہ کاری دراصل انسان میں سرمایہ کاری ہے۔
انسان میں سرمایہ کاری خوش حالی کی بنیاد ہے۔
خوش حالی کو پائیداری سے جوڑنا کرۂ ارض کا تحفظ ہے۔
اور علم، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینا پائیدار امن کی بنیاد ہے۔
اسی لیے 2026ء کے عالمی یومِ خواندگی کا پیغام محض ایک تعلیمی نعرہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک جامع وژن ہے:
لوگوں کے لیے خواندگی۔
کرۂ ارض کے لیے خواندگی۔
خوش حالی کے لیے خواندگی۔
اور ایک پُرامن، باوقار اور پائیدار مستقبل کے لیے خواندگی۔
شکل 1
گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول گلِمت، گوجال، ہنزہ میں عالمی یومِ خواندگی 2026 کی تقریب
تصویر میں گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول گلِمت، گوجال، ہنزہ کے طلبہ و اساتذہ اور ڈسٹرکٹ ہنزہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جناب فیصل شاکر کو عالمی یومِ خواندگی 2026 کی سرگرمیوں میں شریک دکھایا گیا ہے۔ یہ تقریب UNESCO کے موضوع ’’لوگوں، کرۂ ارض اور خوش حالی کے لیے خواندگی‘‘ کے تحت منعقد کی گئی۔
ماخذ: شریف خان (2026)
حوالہ جات
Ahmed, M., Bhattacharya, A., & Ahmed, M. (2020). The BRAC education model. International Journal of Educational Development, 78, 102–115.
Ahmed, S. (2019). Islamic education in the classical period. Oxford University Press.
Aga Khan Development Network. (2024). Education in Gilgit-Baltistan: Progress and challenges. AKDN Publications.
Davenport, C. (2020). Education and political violence. Journal of Peace Research, 57(3), 456–471.
Delors, J. (1996). Learning: The treasure within. UNESCO Publishing.
Education Above All. (2024). Transforming schools and communities in northern Pakistan. Education Above All Foundation.
Hasan, M. (2021). The Islamic educational tradition. Routledge.
Ibn Majah. (n.d.). Sunan Ibn Majah: Hadith on seeking knowledge.
Khan, M., & Ali, S. (2023). Literacy and labour market outcomes in Pakistan. Asian Journal of Education and Development, 12(1), 78–95.
Krumer-Nevo, M., Sidi, M., & Tagliacozzo, R. (2021). Education as a protective factor against extremism. International Journal of Educational Development, 82, 102–118.
Mandokhail, J. K. (2026, September 8). Message on International Literacy Day [Press release]. Governor's Office, Balochistan.
Ministry of Federal Education and Professional Training. (2025). Pakistan education statistics 2024–2025. Government of Pakistan.
Pakistan Bureau of Statistics. (2023). Pakistan Social and Living Standards Measurement Survey 2022–2023. Government of Pakistan.
Pakistan Telecommunication Authority. (2025). Annual report 2024–2025. PTA Publications.
Pashayev, F. (2026, September 8). Message by UNESCO Representative to Pakistan on International Literacy Day 2026. Pakistan Observer.
Psacharopoulos, G., & Patrinos, H. A. (2018). Returns to investment in education: A decennial review of the global literature. Education Economics, 26(5), 445–458.
Rafiq, T. (2026, September 8). Literacy for people, planet and prosperity: Pakistan's way forward. Minute Mirror.
Rahman, T. (2016). Language and education in Pakistan. Oxford University Press.
Sadruddin, M. M. (2025). Design and pilot of an inclusive environmental education course for a community living under unprecedented environmental emergencies in Pakistan: A case study. Journal of Peace Education, 22(1), 101–131.
Sharif, S. (2026, September 8). Message on International Literacy Day [Press release]. Prime Minister's Office, Pakistan.
The High Asia Media. (2025, December 10). Diamer Division: A landscape of neglect. The High Asia Media.
UNESCO. (2021). Reimagining our futures together: A new social contract for education. UNESCO Publishing.
UNESCO. (2022). Global education monitoring report 2022: Gender report—Deepening the debate on those still left behind. UNESCO Publishing.
UNESCO. (2026a). International Literacy Day 2026: Literacy for people, the planet and prosperity. UNESCO.
UNESCO. (2026b). Bridging the equity gap: Addressing out-of-school children in Pakistan with the 2026 UNESCO GEM Report. UNESCO.
UNESCO. (2026c). Empowering a digital generation: Digital Citizens for Peace. UNESCO.
UNESCO. (2026d). Radio Education Project update: Gilgit-Baltistan. UNESCO Pakistan.
UNESCO Institute for Lifelong Learning. (2025). National Literacy Programme, Pakistan: Progress report. UNESCO.
UNESCO Institute for Statistics. (2026). Education data and global literacy statistics. UNESCO.
World Bank. (2023). World development report 2023: Migrants, refugees, and societies. World Bank Group.
World Bank. (2024). Pakistan development update: Education financing. World Bank Group.
World Economic Forum. (2025). Future of jobs report 2025. World Economic Forum.
Zardari, A. A. (2026, September 8). Message on International Literacy Day. Associated Press of Pakistan.
اشاعت اور حقوقِ اشاعت
یہ خصوصی مضمون 8 ستمبر 2026ء کو عالمی یومِ خواندگی کی 60ویں سالگرہ کے موقع پر شائع کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے تجزیے اور آرا مصنف کی اپنی ہیں اور ضروری نہیں کہ وہ کسی حکومت، ادارے یا تنظیم کے سرکاری مؤقف کی نمائندگی کرتی ہوں۔
قارئین کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مضمون کو علمی و تعلیمی مقاصد کے لیے دوسروں تک پہنچائیں، اپنے خاندانوں اور برادریوں میں خواندگی، مطالعے اور زندگی بھر سیکھنے کے فروغ میں کردار ادا کریں، اور پاکستان کے عالمگیر خواندگی کے سفر میں اپنا حصہ ڈالیں۔
© 2026 Diverse Dream Blog. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔
’’خواندگی بدحالی سے امید تک پہنچنے کا پل ہے۔‘‘
یہ مضمون پاکستان کے ہر اس بچے کے نام جو تعلیم کے ذریعے ایک بہتر مستقبل کا خواب دیکھتا ہے- اور ان تمام اساتذہ، والدین، رضاکاروں اور برادریوں کے نام جو ان خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
— مضمون کا اختتام —

Comments
Post a Comment